مدح سرائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مدح، تعریف و توصیف، مدح خوانی۔ "مجبوری اور بے بسی کے سوا وہ کسی اور عالم میں کسی کی مدح سرائی یا بے جا تعریف نہ کر سکتے تھے۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، مارچ، ٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'مدح' لگا کر فارسی زبان سے اسم 'سراء' کے آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگا کر مرکب 'مدح سرائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩١ء کو "محاسن الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مدح، تعریف و توصیف، مدح خوانی۔ "مجبوری اور بے بسی کے سوا وہ کسی اور عالم میں کسی کی مدح سرائی یا بے جا تعریف نہ کر سکتے تھے۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، مارچ، ٨ )

جنس: مؤنث